سری نگر،26/اگست (یو ا ین آئی) جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں جنگجوؤں کی طرف سے ڈسٹرک پولیس لائنز پر کئے گئے فدائین حملے میں تاحال سی آر پی ایف کے دو اہلکاروں سمیت 8 سکیورٹی فورس اہلکار ہلاک جبکہ5؍دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں ریاستی پولیس کے دو اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے8؍اہلکار شامل ہیں۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ طرفین کے مابین جاری مسلح تصادم میں ابھی تک ایک جنگجو کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے پولیس اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ’’جنگجوؤں کے حملے میں ہم نے اپنا ایک اہلکار کھو دیا ہے۔ جنگجو مخالف آپریشن جاری ہے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ طرفین کے مابین گولہ باری کے تبادلے میں ابھی تک ایک جنگجو کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ سی آر پی ایف کے ایک ترجمان نے بتایا’’ہمارے زخمی اہلکاروں میں سے دو جوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔‘‘ جنگجو تنظیم جیش محمد نے اس فدائین حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قصبہ پلوامہ میں آزادی حامی احتجاجی مظاہرین اورسکیورٹی فورسزکے مابین جھڑپیں شروع ہوئی ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیاہے۔ انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات کے طور پر ضلع پلوامہ میں موبائیل انٹرنیٹ سرویس معطل کردی ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کا اقدام سوشیل میڈیا پر کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ہفتہ کی علی الصباح قریب 4 بجے 2؍ جنگجوؤں پر مشتمل ایک بھاری مسلح گروپ نے ڈسٹرک پولیس لائنز پر حملہ کرکے اندر داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی۔انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں نے اندر داخل ہونے کے دوران اندھا دھند فائرنگ کی اور سکیورٹی فورسز کی طرف ہتھ گولے داغے۔ ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں کی ابتدائی فائرنگ میں8؍ سکیورٹی فورس اہلکار زخمی ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو پہلے ضلع اسپتال پلوامہ اور بعدازاں تشویشناک حالت میں سری نگر کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ریاستی پولیس کا ایک اور سی آر پی ایف کے دو اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ہیں۔ مہلوک پولیس اہلکار کی شناخت کانسٹیبل امتیاز احمد شیخ ساکنہ قاضی کولگام کے بطور کردی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی پی ایل کے اندر طرفین کے مابین گولہ بارودکا تبادلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور فدائین جنگجوؤں نے ڈی پی ایل کے اندر ایک عمارت میں پناہ لے رکھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کے چھپنے کی جگہ ٹریک کرنے کے لئے ڈرون کیمروں کا استعمال شروع کردیا گیا ہے ۔